غزل شمارهٔ 4353

Toggle stanza 1
صبح ازل این طرف بنا گوش ندارد
1

صبح ازل این طرف بنا گوش ندارد

شام ابد این زلف سیه پوش ندارد

2

در پله بینایی آشوب شناسان

دریا خطر سینه پر جوش ندارد

3

از خامشی من جگرخصم دو نیم است

شمشیر شکوه لب خاموش ندارد

4

بردار کلاه نمدی از سر بی مغز

کاین خوان تهی حاجت سر پوش ندارد

5

ای شمع ز پیراهن فانوس برون آی

پروانه ما جرات آغوش ندارد

6

صائب چه عجب گر سخن از لاف نگوید

می پخته چو گردید سر جوش ندارد

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…