غزل شمارهٔ 1737

شاعر: صائب

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: یناست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل

Toggle stanza 1
ثبات دولت خوبی ز کوه تمکین است
1

ثبات دولت خوبی ز کوه تمکین است

حصار عافیت باغ، گوش سنگین است

2

چه وقت توست که لب بر لب پیاله نهی؟

برای حسن تو آیینه چشم بدبین است

3

به بوالهوس نکنی سرکشی، نمی دانی

که گل پیاده چو افتاد، مفت گلچین است

4

فریب دختر رزخورده ای، نمی دانی

که این سیاه درون را حجاب کابین است

5

چرا به روی تو هر کج نظر نگاه کند؟

هزار حیف که پیشانی تو بی چین است

6

غرور حسن ندانم چه با تو خواهد کرد

که مست حسنی و این خواب، سخت سنگین است

7

به گوش جان بشنو پندهای صائب را

که از نصیحت او روی شرم رنگین است

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…