غزل شمارهٔ 1761

Toggle stanza 1
خط تو چهره گشای بهار آینه است
1

خط تو چهره گشای بهار آینه است

تبسمت گل جیب و کنار آینه است

2

ز اشتیاق تماشای خود چه خواهی کرد؟

که آه غیرت من پرده دار آینه است

3

هزار میکده خون جگر تلف کردیم

هنوز چهره ما شرمسار آینه است

4

قسم به عشق که از فیض پاکدامانی است

که خلوت همه خوبان کنار آینه است

5

ملامت دل صائب ز عشق بی اثرست

همیشه حسن پرستی شعار آینه است

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…