غزل شمارهٔ 4916

شاعر: صائب

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)

قافیہ: یرخویش

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل

Toggle stanza 1
جوهر ذاتی نمی خواهد ز کس اکسیر خویش
1

جوهر ذاتی نمی خواهد ز کس اکسیر خویش

گوهر از گرد یتیمی می کند تعمیر خویش

2

کاسه فغفور رابر فرق خاقان بشکند

هرکه را باشد ولی نعمت ز چشم سیر خویش

3

پیچ و تاب بیقراری رشته جان من است

می برم چون آب هرجامی روم زنجیر خویش

4

آهوان ناز سگ لیلی به مجنون می کنند

عشق در هر جا که باشد می کند تأثیر خویش

5

زخم من از گردخجلت رخنه دیوار شد

اینقدر غافل نباشد بود از نخجیر خویش

6

می برد رنگ از رخ یاقوت خون گرم ما

رحم کن ای سنگدل برجوهر شمشیر خویش

7

در رکاب سیل نتوانی شدن واصل به بحر

تا نشویی دست رغبت صائب از تعمیر خویش

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…