غزل شمارهٔ 2504

شاعر: صائب

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)

قافیہ: لمیزند

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل

Toggle stanza 1
هرکه دامن بر میان در چیدن گل می‌زند
1

هرکه دامن بر میان در چیدن گل می‌زند

آستین بر شعله آواز بلبل می‌زند

2

هرکه بر خود تلخ می‌سازد شکر خواب صبوح

بوسه تر همچو شبنم بر رخ گل می‌زند

3

نغمه‌اش از بس گلوسوز است در دل‌های شب

بوسه‌ها پروانه بر منقار بلبل می‌زند

4

همتی در کار ما ای عارفان و عاشقان

بر در دل حلقه شوق سیر کابل می‌زند

5

هرکه چون صائب به طرز تازه، دیرین آشناست

دم به ذوق عندلیب باغ آمل می‌زند

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…