Toggle stanza 1
دل مست حیرت و سر پرشور درسماع
1

دل مست حیرت و سر پرشور درسماع

موسی به خواب بیخودی وطور درسماع

2

خلقی به یکدیگر کف افسوس می زنند

خون ازنشاط دررگ منصوردرسماع

3

جایی که ریگ رقص روانی نمی کند

مجنون ساده لوح کند شور درسماع

4

خوش باده ای است عشق که چندین هزاربط

آمد به بال این می پرزور درسماع

5

سر سبز باد هند که از آرمیدگی

درزیر پای فیل بود مور درسماع

6

صائب زشور فکر توآمد به زیر خاک

مرغ دل امیدی و شاپور درسماع

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…