غزل شمارهٔ 3745

Toggle stanza 1
صراحیی که دم صبح قلقلی دارد
1

صراحیی که دم صبح قلقلی دارد

چو بلبلی است که مد نظر گلی دارد

2

زبان شانه ز وصفش به یکدیگر پیچید

کجا بهشت چو آن زلف سنبلی دارد؟

3

سرم ز شعله سودا چو دود می نگرد

مگر دلم سر پیوند کاکلی دارد؟

4

ز حال صائب و نومیدیش چه می پرسی

نمی رسد به تو دستش، توکلی دارد

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…