Toggle stanza 1
برهان واصلان فنا آرمیدگی است
1

برهان واصلان فنا آرمیدگی است

بر مرگ رفتگان جزع از نارسیدگی است

2

سیلاب از شتاب به صد رنگ می شود

بر یک قرار، آب گهر ز آرمیدگی است

3

آنجا که یار پرده براندازد از عذار

قانع شدن به باغ بهشت از ندیدگی است

4

دار فناست خامی منصور را دلیل

با شاخ، الفت ثمر از نارسیدگی است

5

شبنم ز چشم پاک بود محرم چمن

صائب عزیز این چمن از پاک دیدگی است

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…