غزل شمارهٔ 2006
Toggle stanza 1برهان واصلان فنا آرمیدگی است
11
برهان واصلان فنا آرمیدگی است
بر مرگ رفتگان جزع از نارسیدگی است
22
سیلاب از شتاب به صد رنگ می شود
بر یک قرار، آب گهر ز آرمیدگی است
33
آنجا که یار پرده براندازد از عذار
قانع شدن به باغ بهشت از ندیدگی است
44
دار فناست خامی منصور را دلیل
با شاخ، الفت ثمر از نارسیدگی است
55
شبنم ز چشم پاک بود محرم چمن
صائب عزیز این چمن از پاک دیدگی است
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

