Toggle stanza 1
خورشید اگر از چشم کسان آب گشاید
1

خورشید اگر از چشم کسان آب گشاید

رخساره گلرنگ تو خوناب گشاید

2

از چشمه خورشید مجو آب مروت

کاین چشمه ز چشم دگران آب گشاید

3

در نیم نفس می شود از پاک فروشان

هر کس چو کتان بار به مهتاب گشاید

4

در بحر سر از حلقه گرداب برآرد

هر کس که کمر در ره سیلاب گشاید

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…