Toggle stanza 1
ز تلخرویی دریاست بی نیاز صدف
1

ز تلخرویی دریاست بی نیاز صدف

کند به ابر گهر بار لب فراز صدف

2

کمند جذبه ارباب حاجت است کرم

که ابر را کند از بحر پیشواز صدف

3

ز خوان عالم بالاست روزی دل پاک

نمی کند دهن خود به بحر باز صدف

4

مگر که خنده دندانمای او را دید؟

که شد به عقد گهر بوته گداز صدف

5

دهان لاف پر ازخاک باد دریا را

که پیش ابر کند دست خود دراز صدف

6

ز وصل گوهرازان کامیاب شد صائب

که شد ز صدق سراپا کف نیاز صدف

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…