Toggle stanza 1
علایق دامن آزاده ما را نمی گیرد
1

علایق دامن آزاده ما را نمی گیرد

کمند رشته مریم مسیحا را نمی گیرد

2

کجا مجنون ما گستاخ گیرد دامن لیلی؟

که از پاس ادب دامان صحرا را نمی گیرد

3

مرا ترساند از زخم زبان ناصح، نمی داند

که خس دامان سیل دشت پیما را نمی گیرد

4

مشو غافل زپاس وقت اگر آسودگی خواهی

که خواب روز جای خواب شبها را نمی گیرد

5

ندارد آرزو ره در دل آزاده ام صائب

زمین پاک من نخل تمنا را نمی گیرد

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…