غزل شمارهٔ 4928

شاعر: صائب

وزن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)

قافیہ: ودش

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 4

صنف: غزل

Toggle stanza 1
نمی تابد ز آتش روی، خط عنبر آلودش
1

نمی تابد ز آتش روی، خط عنبر آلودش

چه شمع است این که چون پروانه گردد گرد سردودش

2

تماشای گل و شبنم گوارا باد بربلبل

که بوی گل نمی ارزد به روی گریه آلودش

3

خدا از وعده دور و دراز او نگه دارد!

که دارد وعده بافردای محشر وعده زودش

4

جهان پرتیر و شمشیرست و من پیراهنی دارم

که تارش رشته جان است و جسم ناتوان پودش

5

سپند شوخ چشمی نذر آتش کرده ام صائب

که خواهد چشم مجمرروشنایی یافت ازدودش

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…