غزل شمارهٔ 4865

شاعر: صائب

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)

قافیہ: انهباش

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 5

صنف: غزل

Toggle stanza 1
روشناسِ اهلِ مشرب چون درِ میخانه باش
1

روشناسِ اهلِ مشرب چون درِ میخانه باش

آشناتر با می از خطِ لبِ پیمانه باش

2

دیده‌بانی را به بلبل داد آخر باغبان

چشمِ بدبینی ببند و چشمِ صاحب خانه باش

3

در غبارِ خط نهان شد خال، رحمی پیش گیر

دام را در خاک چون کردی به فکر دانه باش

4

صائب امشب نوبتِ افسانهٔ مژگان اوست

چشم اگر داری به فکرِ گریهٔ مستانه باش

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…