Toggle stanza 1
آتش افروز شکر شیرینی پیغام توست
1

آتش افروز شکر شیرینی پیغام توست

زخم پیرای ملاحت تلخی دشنام توست

2

سبزه ای کز آتش یاقوت فرسای کلیم

می زند جوش طراوت، خط عنبر فام توست

3

ابر سیرابی که بر خارا کند گوهر نثار

وز ندامت تر نگردد، التفات عام توست

4

ای تغافل پیشه بر پرواز ما دل بد مکن

خاک ما افتادگان در شهر بند دام توست

5

کار خود صائب به تأثیر محبت واگذار

این ندیدنها گناه شوخی ابرام توست

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…