غزل شمارهٔ 5949

شاعر: صائب

وزن: مفعول فاعلاتن مفعول فاعلاتن (مضارع مثمن اخرب)

قافیہ: ینم

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل

Toggle stanza 1
چون چشم آبگینه، هر چند پاک بینم
1

چون چشم آبگینه، هر چند پاک بینم

در پرده خجالت، زان روی شرمگینم

2

از زلف مشکبویان مغزم شود پریشان

تا ریشه کرد در دل آن خط عنبرینم

3

یک برگ کاه ایشان بی کوه منتی نیست

از خرمن بزرگان عمری است خوشه چینم

4

افغان که همچو پرگار با پای آهنین من

چندان که می زنم دور در گام اولینم

5

گفتی بمیر تا من از نو دهم حیاتت

ای روح بخش عالم من مرده همینم!

6

رازی که در دلم هست صائب ز طینت پاک

چون آب می توان خواند از صفحه جبینم

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…