Toggle stanza 1
خالت ز خط مشکین دست دگر برآورد
1

خالت ز خط مشکین دست دگر برآورد

حرصش شود دوبالا موری که پر برآورد

2

مو از خمیر نتوان آسان چنان کشیدن

کز عقل وهوش ماراآن خوش کمر برآورد

3

چون پسته مغز هر کس از زهر سبز گردید

از پوست چون برآمد سر از شکر برآورد

4

از پیچ وتاب زنهارچون رشته سر مپیچید

کاین راه پرخم و پیچ سر از گهر برآورد

5

گفتم کشم به پیری پا چون هدف به دامن

از قد چون کمان حرص چون تیر پر برآورد

6

ابرام بی اثر نیست کز مغز سنگ آهن

از روی سخت صائب چندین شرر برآورد

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…