Toggle stanza 1
ازان پیچیده ام همچو صدا در ظرف خاموشی
1

ازان پیچیده ام همچو صدا در ظرف خاموشی

که نتواند نهاد انگشت کس بر حرف خاموشی

2

نسازد سرمه آفاق شبگردی نفس گیرش

کند چون صبحدم هر کس نفس را صرف خاموشی

3

ازان رزق صدف گردید فیض عالم بالا

که با آن دستگه دریا ندارد ظرف خاموشی

4

همین بس فضل خاموشی که در هر انجمن باشد

به نیک و بد نیفتد بر زبانها حرف خاموشی

5

بود چون پسته بی مغز، صائب باد در دستش

نبندد از لب گفتار هر کس طرف خاموشی

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…