شمارهٔ 127
Toggle stanza 1بندگان را ز حد به در منواز
11
بندگان را ز حد به در منواز
این سخن سهل تستری گوید
22
کانکه با خود برابرش کردی
بیم باشد که برتری جوید
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

