شمارهٔ 148
Toggle stanza 1پادشاهان پاسبانانند مر درویش را
11
پادشاهان پاسبانانند مر درویش را
پند پیران تلخ باشد بشنو و بدخو مباش
22
چون کمند انداخت دزد و رخت مسکینی ببرد
پاسبان خفته خواهی باش و خواهی گو مباش
صداکار منتخب کریں
0:000:00
ماخذ
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

