رباعی شمارهٔ 129
Toggle stanza 1ای مطرب ازان حریف پیغامی ده
11
ای مطرب ازان حریف پیغامی ده
وین دلشده را به عشوه آرامی ده
22
ای ساقی از آن دورِ وفا جامی ده
ور رشک برد حسود، گو جامی ده
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

