رباعی شمارهٔ 127

Toggle stanza 1
ای کاش نکردمی نگاه از دیده
1
ای کاش نکردمی نگاه از دیده
بر دل نزدی عشق تو راه از دیده
2
تقصیر ز دل بود و گناه از دیده
آه از دل و صد هزار آه از دیده

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…