رباعی شمارهٔ 539

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: افتهاند

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
اندر طلب آن قوم که بشتافته‌اند
1

اندر طلب آن قوم که بشتافته‌اند

از هرچه جز اوست روی برتافته‌اند

2

خاک در او باش که سلطان و فقیر

این سلطنت و فقر از او یافته‌اند

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…