رباعی شمارهٔ 539
Toggle stanza 1اندر طلب آن قوم که بشتافتهاند
11
اندر طلب آن قوم که بشتافتهاند
از هرچه جز اوست روی برتافتهاند
22
خاک در او باش که سلطان و فقیر
این سلطنت و فقر از او یافتهاند
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

