رباعی شمارهٔ 540
Toggle stanza 1اندیشهٔ هشیار تو هشیار کشد
11
اندیشهٔ هشیار تو هشیار کشد
زارش کشد و بزاری زار کشد
22
شاهان همه خصم خویش بر دار کشند
ان دولت بیدار تو بی دار کشد
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

