رباعی شمارهٔ 540

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ارکشد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
اندیشهٔ هشیار تو هشیار کشد
1

اندیشهٔ هشیار تو هشیار کشد

زارش کشد و بزاری زار کشد

2

شاهان همه خصم خویش بر دار کشند

ان دولت بیدار تو بی دار کشد

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…