رباعی شمارهٔ 1845
Toggle stanza 1خواهی که حیات جاودانه بینی
11
خواهی که حیات جاودانه بینی
وز فقر نشانهٔ عیانی بینی
22
اندر ره فقر بد مرو تا نرود
مردانه درآ که زندگانی بینی
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

