رباعی شمارهٔ 1845

Toggle stanza 1
خواهی که حیات جاودانه بینی
1

خواهی که حیات جاودانه بینی

وز فقر نشانهٔ عیانی بینی

2

اندر ره فقر بد مرو تا نرود

مردانه درآ که زندگانی بینی

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…