رباعی شمارهٔ 1844

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: وری

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
حیف است که پیش کر زنی طنبوری
1

حیف است که پیش کر زنی طنبوری

یا یوسف همخانه کنی با کوری

2

یا قند نهی در دو لب رنجوری

یا جفت شود مخنثی با حوری

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…