رباعی شمارهٔ 1844
Toggle stanza 1حیف است که پیش کر زنی طنبوری
11
حیف است که پیش کر زنی طنبوری
یا یوسف همخانه کنی با کوری
22
یا قند نهی در دو لب رنجوری
یا جفت شود مخنثی با حوری
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

