رباعی شمارهٔ 1439
Toggle stanza 1بر گرد جهان این دل آوارهٔ من
11
بر گرد جهان این دل آوارهٔ من
بسیار سفر کرد پی چارهٔ من
22
وان آب حیات خوش و خوشخوارهٔ من
جوشید و برآمد ز دل خارهٔ من
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

