رباعی شمارهٔ 827
Toggle stanza 1من بندهٔ یاری که ملالش نبود
11
من بندهٔ یاری که ملالش نبود
کانرا که ملالست وصالش نبود
22
گوئیکه خیالست و ترا نیست وصال
تا تیره بود آب خیالش نبود
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

