رباعی شمارهٔ 827

Toggle stanza 1
من بندهٔ یاری که ملالش نبود
1

من بندهٔ یاری که ملالش نبود

کانرا که ملالست وصالش نبود

2

گوئیکه خیالست و ترا نیست وصال

تا تیره بود آب خیالش نبود

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…