رباعی شمارهٔ 1153
Toggle stanza 1اندر طلب دوست همی بشتابم
11
اندر طلب دوست همی بشتابم
عمرم به کران رسید و من در خوابم
22
گیرم که وصال دوست در خواهم یافت
این عمر گذشته را کجا دریابم
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

