رباعی شمارهٔ 1886

Toggle stanza 1
رقص آن نبود که هر زمان برخیزی
1

رقص آن نبود که هر زمان برخیزی

بی‌درد چو گرد از میان برخیزی

2

رقص آن باشد کز دو جهان برخیزی

دل پاره کنی وز سر جان برخیزی

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…