رباعی شمارهٔ 1887
Toggle stanza 1رو ای غم و اندیشه خطا میگوئی
11
رو ای غم و اندیشه خطا میگوئی
از کان وفا چرا جفا میگوئی
22
هر کودک را گر از جفا ترسانند
من پیر شدم در این مرا میگوئی
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

