رباعی شمارهٔ 1887

Toggle stanza 1
رو ای غم و اندیشه خطا می‌گوئی
1

رو ای غم و اندیشه خطا می‌گوئی

از کان وفا چرا جفا می‌گوئی

2

هر کودک را گر از جفا ترسانند

من پیر شدم در این مرا می‌گوئی

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…