رباعی شمارهٔ 1888

Toggle stanza 1
روزی به خرابات گذر می‌کردی
1

روزی به خرابات گذر می‌کردی

کژ کژ به کرشمه‌ای نظر می‌کردی

2

آنها که جهان زیر و زبر می‌کردند

چون کار جهان زیر و زبر می‌کردی

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…