رباعی شمارهٔ 1460

Toggle stanza 1
در باده‌کشی تو خویش را ریشه مکن
1

در باده‌کشی تو خویش را ریشه مکن

وز باده و از ساده تو اندیشه مکن

2

با زنگی زلف او در آنور مجوی

اندیشهٔ باریک چنین پیشه مکن

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…