رباعی شمارهٔ 1461
Toggle stanza 1در بحر کرم حرص و حسد پیمودن
11
در بحر کرم حرص و حسد پیمودن
وین آب خوشی ز همدگر بربودن
22
ماهی ننهد آب ذخیره هرگز
چون بیدریا هیچ نخواهد بودن
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

