رباعی شمارهٔ 861

Toggle stanza 1
یاری خواهم که فتنه‌انگیز بود
1

یاری خواهم که فتنه‌انگیز بود

آتشدل و خونخواره و خونریز بود

2

با چرخ و ستارگان به استیز بود

در بحر رود چو آتش تیز بود

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…