رباعی شمارهٔ 1671

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ادکنی

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
از رنج و ملال ما چه فریاد کنی
1

از رنج و ملال ما چه فریاد کنی

آن به که به شکر وصل را شاد کنی

2

از ما چه گریزی و چرا داد کنی

زان ترس که وصل را بسی یاد کنی

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…