رباعی شمارهٔ 1864
Toggle stanza 1در عشق تو خون دیده بارید بسی
11
در عشق تو خون دیده بارید بسی
جان در تن من ز غم بنالید بسی
22
آگاه نئی ز حالم ای جان جهان
چرخم به بهانهای تو مالید بسی
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

