رباعی شمارهٔ 1865

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: الیدبسی

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
در عشق تو خون دیده بارید بسی
1

در عشق تو خون دیده بارید بسی

جان در تن من ز غم بنالید بسی

2

آگاه نی ز حالم ای جان جهان

چرخم به بهانه تو مالید بسی

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…