رباعی شمارهٔ 838

Toggle stanza 1
هان ای دل خسته وقت مرهم آمد
1

هان ای دل خسته وقت مرهم آمد

خوش خوش نفسی بزن که آن دم آمد

2

یاریکه از او کار شود یاران را

در صورت آدمی به عالم آمد

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…