رباعی شمارهٔ 838
Toggle stanza 1هان ای دل خسته وقت مرهم آمد
11
هان ای دل خسته وقت مرهم آمد
خوش خوش نفسی بزن که آن دم آمد
22
یاریکه از او کار شود یاران را
در صورت آدمی به عالم آمد
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

