رباعی شمارهٔ 1743

Toggle stanza 1
ای شاخ گلی که از صبا می‌رنجی
1

ای شاخ گلی که از صبا می‌رنجی

ور زانکه گلی تو پس چرا می‌رنجی

2

آخر نه صبا مشاطهٔ گل باشد

این طرفه که از لطف خدا می‌رنجی

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…