رباعی شمارهٔ 1743
Toggle stanza 1ای شاخ گلی که از صبا میرنجی
11
ای شاخ گلی که از صبا میرنجی
ور زانکه گلی تو پس چرا میرنجی
22
آخر نه صبا مشاطهٔ گل باشد
این طرفه که از لطف خدا میرنجی
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

