رباعی شمارهٔ 1199
Toggle stanza 1تا ظن نبری که من دوی میبینم
11
تا ظن نبری که من دوی میبینم
هر لحظه فتوحی به نوی میبینم
22
جان و دل من جمله توی میدانم
چشم و سر من جمله توی میبینم
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

