رباعی شمارهٔ 1199

Toggle stanza 1
تا ظن نبری که من دوی می‌بینم
1

تا ظن نبری که من دوی می‌بینم

هر لحظه فتوحی به نوی می‌بینم

2

جان و دل من جمله توی می‌دانم

چشم و سر من جمله توی می‌بینم

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…