رباعی شمارهٔ 1200
Toggle stanza 1تا ظن نبری که من کمت میبینم
11
تا ظن نبری که من کمت میبینم
بیزحمت دیده هر دمت میبینم
22
در وهم نیاید و صفت نتوان کرد
آن شادیها که از غمت میبینم
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

