رباعی شمارهٔ 617

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: اربود

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 4

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
جامی که بگیرم میش انوار بود
1

جامی که بگیرم میش انوار بود

بیتی که بگویم همه اسرار بود

2

در هر طرفی که بنگرد دیدهٔ من

بی‌پرده مرا ضیاء دلدار بود

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…