رباعی شمارهٔ 1518
Toggle stanza 1هر خانه که بیچراغ باشد ای جان
11
هر خانه که بیچراغ باشد ای جان
زندان بود آن نه باغ باشد ای جان
22
هرکس که بطبل باز شد باز نشد
بازش تو مخوان که زاغ باشد ای جان
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

