رباعی شمارهٔ 547

Toggle stanza 1
ایام وصال یار گوئی که نبود
1

ایام وصال یار گوئی که نبود

وان دولت بیشمار گوئی که نبود

2

از یار به جز فراق بر جای نماند

رفت آن همه روزگار گوئی که نبود

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…