رباعی شمارهٔ 547
Toggle stanza 1ایام وصال یار گوئی که نبود
11
ایام وصال یار گوئی که نبود
وان دولت بیشمار گوئی که نبود
22
از یار به جز فراق بر جای نماند
رفت آن همه روزگار گوئی که نبود
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

