رباعی شمارهٔ 548
Toggle stanza 1ای اهل صفا که در جهان گردانید
11
ای اهل صفا که در جهان گردانید
از بهر بتی چرا چنین حیرانید
22
آنرا که شما در این جهان جویانید
در خود جوئید چون شما خود آنید
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

