رباعی شمارهٔ 542

Toggle stanza 1
اول که رخم زرد و دلم پرخون بود
1

اول که رخم زرد و دلم پرخون بود

هم خرقه و همراه دلم مجنون بود

2

آن صورت و آن قاعده تا اکنون بود

کاری آمد که آن همه مادون بود

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…