رباعی شمارهٔ 1877
Toggle stanza 1دوش از سر عاشقی و از مشتاقی
11
دوش از سر عاشقی و از مشتاقی
میکردم التماس می از ساقی
22
چون جاه و جمال خویش بنمود به من
من نیست شدم بماند ساقی ساقی
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

