رباعی شمارهٔ 1816

Toggle stanza 1
تا عاشق آن روی پریزاد شوی
1

تا عاشق آن روی پریزاد شوی

وانگه هردم چو خاک برباد شوی

2

دانم که در آتشی و بگذاشتمت

باشد که در این واقعه استاد شوی

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…