رباعی شمارهٔ 1817

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ستینرسی

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
تا هشیاری به طعم مستی نرسی
1

تا هشیاری به طعم مستی نرسی

تا تن ندهی به جان پرستی نرسی

2

تا در غم عشق دوست چون آتش و آب

از خود نشوی نیست به هستی نرسی

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…