رباعی شمارهٔ 1817
Toggle stanza 1تا هشیاری به طعم مستی نرسی
11
تا هشیاری به طعم مستی نرسی
تا تن ندهی به جان پرستی نرسی
22
تا در غم عشق دوست چون آتش و آب
از خود نشوی نیست به هستی نرسی
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

