رباعی شمارهٔ 635
Toggle stanza 1چون بدنامی بروزگاری افتد
11
چون بدنامی بروزگاری افتد
مرد آن نبود که نامداری افتد
22
گر در خواهی ز قعر دریا بطلب
کان کف باشد که بر کناری افتد
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

